ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لوک سبھا انتخابات: کو آرڈی نیشن اجلاس پر تمام کی نظریں کانگریس اور جے ڈی ایس کے مابین سیٹوں کی تقسیم

لوک سبھا انتخابات: کو آرڈی نیشن اجلاس پر تمام کی نظریں کانگریس اور جے ڈی ایس کے مابین سیٹوں کی تقسیم

Mon, 04 Mar 2019 11:02:10    S.O. News Service

بنگلورو،4؍مارچ (ایس او  نیوز)آنے والے لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر سیٹوں کی تقسیم کے معاملہ میں مخلوط حکومت کی ساجھیدار کانگریس اور جے ڈی ایس پارٹیوں کے مابین رسہ کشی جاری ہے ۔ اس صورتحال کے درمیان کل بروز پیر سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا کی زیر صدارت کو آرڈی نیشن کمیٹی کا اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے ،اس اجلاس میں کئی سیاسی فیصلوں کے کئے جانے کا امکان ہے ۔ 12لوک سبھا سیٹوں کا مطالبہ کرنے والے جے ڈی ایس قائدین کانگریس پارٹی کی نمائندگی والی کئی سیٹوں پر نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔یہ مطالبہ کانگریس قائدین کیلئے ناقابل ہضم بناہوا ہے ، جبکہ کانگریس پارٹی نے پہلے ہی یہ واضح کردیا ہے کہ کانگریس کی نمائندگی والے 10لوک سبھا حلقو ں میں سے کسی بھی حلقہ کو جے ڈی ایس کے حق میں چھوڑنا ممکن نہیں ہے ۔ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیتنے کے سلسلہ میں مخلوط حکومت کی ساجھیدار پارٹیوں نے منصوبہ بنا یا ہے ۔ اس کے مطابق ساجھیدار پارٹیوں کے قائدین نے حکمت عملی طے کی ہے ۔ کل ہونے والے کوآرڈی نیشن کمیٹی اجلاس میں سیٹوں کی تقسیم سے متعلق کیا جانے والا فیصلہ ریاستی سیاست کی سمت طے کرے گا ۔ بنگلور نارتھ ، چکبالا پور ، منڈیا ،میسور ، ہاسن ، بنگلور دیہی ، ٹمکور، کولار سمیت جملہ 12لوک سبھا سیٹوں کا مطالبہ جے ڈی ایس کررہی ہے، کل ہونے والے اجلاس میں ساجھیدار پارٹی کانگریس جے ڈی ایس کے مذکورہ مطالبہ پر کیا موقف اختیار کرنے والی ہے واضح ہوجائے گا ۔
اتفاق رائے مشکل:۔ بروز پیر صبح9:30 بجے کو آرڈی نیشن کمیٹی اجلاس کمار کروپا گیسٹ ہاؤز میں ہونے جارہا ہے ۔ وزیراعلیٰ کمار سوامی ،جے ڈی ایس کے ریاستی صدر ایچ وشواناتھ ،پارٹی کے قائد دانش علی ، کانگریس کے ریاستی نگران کار کے سی وینو گوپال ، کے پی سی سی کے صدر دنیش گنڈو راؤ اورنائب وزیراعلیٰ جی پرمیشور اجلاس میں شرکت کریں گے۔ تفصیلی گفتگو اور تبادلہ خیال ہوگا ۔ اس کے باوجود اتفاق رائے کے مرحلہ تک پہنچنا مشکل مانا جارہاہے ۔ 

ہائی کمان کافیصلہ:  سیٹوں کی تقسیم کا معاملہ ہائی کمان تک جائے گا ۔ ریاستی قائدین کی بات چیت ناکام ہوگئی یا اتفاق رائے قائم نہیں کیا جاسکا تو معاملہ آخر کار راہل گاندھی اور ایچ ڈی دیوے گوڈا کے روبرو ہوگا ۔ دونوں آپس میں مل بیٹھ کر معاملہ کو حل کریں گے ۔ فی الحال کانگریس پارٹی سے جملہ10اراکین پارلیمان ریاست کی نمائندگی کررہے ہیں ، ٹمکور ،بنگلور دیہی ، کولار ،چکبالاپور، بلاری سمیت جملہ10لوک سبھا حلقوں کی نمائندگی کانگریس کررہی ہے ۔ یہ حلقے کانگریس کے قلعے مانے جارہے ہیں،کسی بھی حالت میں ان حلقوں کو چھوڑنے کیلئے کانگریس قائدین تیار نہیں ہیں۔ منڈیا میں سابق وزیر آنجہانی امبریش کی بیوی سما لتا کو میدان میں اتارنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ، یہ جے ڈی ایس کے لئے نا قابل ہضم معاملہ بنا ہوا ہے ۔ اس حلقہ سے کمار سوامی کے بیٹے نکھل کمار کومیدان میں لانے کی تیاری شروع کی گئی ہے۔ اس درمیان سمالتا کی انٹری نے جے ڈی ایس کوپریشان کردیا ہے۔ کیونکہ جے ڈی ایس کومعلوم ہے کہ سما لتا طوفان بن جائیں گی اور طوفان کے سامنے نکھل کمارقدم جمانہیں پائیں گے۔خود دیوے گوڈا کے لئے بھی معاملہ درد سر بنا ہواہے ۔ ہاسن لوک سبھا حلقہ سے ایچ ڈی ریونا کے بیٹے پرجول ریونا کو میدان میں اتارنے کے سلسلہ میں دیوے گوڈا غور کررہے ہیں اور خود چکبالاپور حلقہ سے انتخاب لڑنے کی فکر کے ساتھ وہ سیاسی حکمت عملی طے کررہے ہیں ، بنگلورنارتھ لوک سبھا حلقہ سے کانگریس امیدوار کو میدان میں لانے کی رائے یشونت پور کے رکن اسمبلی ایس ٹی سوم شیکھر نے ظاہر کی ہے ۔ شیموگہ ، ہاسن ، منڈیا ،وجئے پورسمیت دیگر دو تین حلقوں کو چھوڑ کر دینے کیلئے کانگریس قائدین غور کررہے ہیں، اس درمیان میسور حلقہ کو جے ڈی ایس کے لئے چھوڑ دینے کیلئے سدارامیا رضا مند نظر نہیں آرہے ہیں۔ ساری ریاست کی توجہ کل کے اجلاس پر ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ جے ڈی ایس کیلئے کانگریس کتنی سیٹیں دینے پر راضی ہوگی ۔ یہ معاملہ ریاستی سطح پر حل ہوگا یا ہائی کمان تک جائے گا ؟ کل کے اجلاس میں ان سوالات کے جواب مل جائیں گے۔


Share: